اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/سلسلہ امامتؑ کی 11 ویں کڑی حضرت امام حسن العسکری کے یوم شہادت، ایام عزا کے اختتام اور اسیرانِ کربلاؑ کی مدینہ واپسی کے دن کی مناسبت سے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں مجلس عزا منعقد ہوئی، جہاں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے امام عالی مقام کے سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔
8 ربیع الاول اسیرانِ کربلاؑ کے زندانِ شام سے رہائی کے بعد مدینہ منورہ میں وارد ہونے کے دن اور ایام عزا کے اختتام کی مناسبت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے آغا صاحب نے معرکہ کربلا سے جُڑے کئی تاریخی واقعات کی وضاحت کی۔ ریاست جموں وکشمیر میں گزشتہ 27 برس سے بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو جبروبربریت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حقوق البشر کی عالمی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنی جائزہ ٹیمیں کشمیر بھیج کر بھارتی فورسز کے ہاتھوں انجام پذیر انسانیت سوز سیاہ کارناموں کی رپورٹ مرتب کرکے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پورا کریں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے دو ماہ قبل ریاست میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک ٹیم کشمیر بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاہم ابھی تک اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ کشمیریوں کی برحق جدوجہد کو دبانے کیلئے جبروتشدد اور بربریت کے حربوں میں بھارت اسرائیل سے بھی بڑھ کر سفاکیت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی جس بے رحمی کے ساتھ دھجیاں اُڑھائی جارہی ہے اس کی مثال دنیا کے کسی تانا شاہی نظام میں بھی نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر پر اپنا جابرانہ قبضہ اور تسلط برقرار رکھنے کیلئے بھارت کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔ فرضی جھڑپیں ، حراستی گمشدگیاں ، نہتے مظاہرین پر راست فائرنگ ، بستیوں کی توڑ پھوڑ ، مذہبی معاملات میں ناقابل برداشت مداخلت گزشتہ 27 سال سے کشمیریوں کا مقدر بن چکی ہے۔ گزشتہ 5 ماہ سے جاری مزاحتمی ہڑتال اور احتجاجات کے دوران بھارتی بربریت مذید شدت اختیار کرچکی ہے۔ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں پُرامن مظاہروں کو روکنے کیلئے پیلٹ گن جیسے مہلک ترین ہتھیار کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان مضروب اور سینکڑوں آنکھوں کی بینائی سے محروم کردئے گئے۔ اس جگر سوز صورتحال کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے صورتحال کی بہتری اس دیرینہ سیاسی تنازعہ کے حل سے جُڑی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں تنازعہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے عالمی برادری کی مداخلت ایک ناگزیر انسانی ذمہ داری ہے۔ جنوبی کشمیر میں فورسز اور حریت پسندعساکر کے درمیان معرکہ آرائی کے دوران فورسز کی طرف سے عام شہریوں کونشانہ بنانے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے اس سانحہ میں شہید ہوئے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور مضروبین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲